اس تمہید کے بعد یہ بات عرض ہے کہ کر پٹو کرنسی پر جو بھی حکم آگے آنے والے سطور میں ذکر کیا جائے گا اس کا قطعا یہ معنی نہیں ہوگا کہ قارئین فقط اس تحریر کی بنیاد پر کر پٹوکرنسی میں سرمایہ کاری شروع کردیں بلکہ جن احباب کو اسکی با قاعدہ معلومات ہوں اور تجربہ ہو، معاشی صورتحال اور اس ٹیکنالوجی کو سمجھنے کی طاقت ہو تو وہ ذاتی دلچسپی کی بنیاد پر اس میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔
۱ اتہاس ۲ موزونیت ۳ باہری لنک ۴ حوالہ Toggle the table of contents کریپٹو کرنسی
اس لیے حقیقی اعداد و شمار بہت زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ فرم نے اس حوالے سے بی بی سی کی ای میل کا جواب نہیں دیا۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق سرمایہ کار کرپٹو کرنسی میں اس امید کے ساتھ سرمایہ کاری کر رہے ہیں کہ آنے والی ٹرمپ انتظامیہ اس حوالے سے مثبت پالیسی رکھے گی۔
یہی سلسلہ آگے چلا اور اس فکر پر کی کرنسیاں وجود میں لائی گئیں۔
میں نے اپنے تمام پاؤنڈز کو بٹ کوائن میں بدل کر کرپٹو کرنسی کا سفر شروع کیا۔ میں نے ایسا کرنے میں کافی سکون محسوس کیا کیونکہ بٹ کوائن بالکل عام پیسوں کی طرح ہے۔ بینک اور حکومت کے کنٹرول کی بجائے اس کرنسی کو کمپیوٹرز اور کے ایک غیر مرکزی نیٹ ورک کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے جسے ’بلاک چین‘ کہتے ہیں۔
اگرچہ کرپٹو کرنسیوں کو غیر مرکزی (ڈی سینٹرالائزڈ) کرنسی بتایا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ 'فی ایٹ' کرنسی سے بھی زیادہ سینٹرالائزڈ ہے- شخصی رازداری آزادی کا سب سے اہم ستون ہوتا ہے۔ ہر مطلق العنان پرائیویسی کو ختم کرتا ہے۔
کرپٹو کرنسی کو ڈیجیٹل والٹ میں محفوظ کرنے اور خریدوفروخت کے لیے ٹوکنز یا کوائنز کی منتقلی کے لیے ایڈوانس کوڈنگ انکرپشن استعمال ہوتی ہے میکہ کوائن جسے کرپٹوگرافی کہا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اس ڈیجیٹل کرنسی کو کرپٹو کرنسی کا نام دیا گیا ہے۔
جرمن ماڈل کی تصویر لائک کرنے پر وراٹ کوہلی کے خلاف ہنگامہ
گذشتہ چند ہفتوں میں رونما ہونے والے ان واقعات کے بعد سے ان مالیاتی اداروں کو ’بِٹ کوائن وہیل‘ کہا جانے لگا ہے۔
اسلام آباد، راولپنڈی میں ہر قسم کی ٹریفک کا داخلہ تاحکمِ ثانی بند، ’عوام تعاون کریں‘
ایتھیریم کو بِٹ کوائن کے بعد دنیا کی دوسری بڑی کرپٹو کرنسی کہا جاتا ہے جسے ایتھر ٹوکن کے میکہ کوائن ذریعے استعمال کیا جاتا ہے اور یہ بھی بلاک چین کے ذریعے چلتی ہے۔
بِٹ کوائن ایک کرپٹو کرنسی ہے جسے آپ ڈیجیٹل کرنسی بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ روایتی طور پر دُنیا بھر میں استعمال ہونے والی کرنسیوں ڈالر، پاونڈ یا روپے وغیرہ سے مختلف اس لیے ہے کیونکہ اسے کوئی مستند مالی ادارہ کنٹرول نہیں کرتا۔
When these developments collide, they build the one thing each individual Trader should grasp: Price Volatility.